تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ مُّهْطِعِیْنَاِلَىالدَّاعِ﴾”اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے۔“ یعنی پکارنے والے کی پکار کا جلدی سے جواب دیتے ہوئے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ پکارنے والا انھیں پکارے گا اور قیامت کے میدان میں حاضر ہونے کا حکم دے گا، وہ اس کی پکار پر لبیک کہیں گے اور جلدی سے تعمیل کریں گے۔ ﴿ یَقُوْلُالْ٘كٰفِرُوْنَ﴾ یعنی وہ کفار جن کے سامنے ان کا عذاب موجود ہو گا، کہیں گے: ﴿ هٰؔذَایَوْمٌعَسِرٌ ﴾”یہ بڑا سخت دن ہے۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ عَلَىالْ٘كٰفِرِیْنَغَیْرُیَسِیْرٍ ﴾ (المدثر: 10/74) ”کافروں پر (وہ دن) آسان نہ ہوگا۔“ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دن مومنوں پر بہت آسان ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{مهطعينَ إلى الدَّاعِ}؛ أي: مسرعين لإجابة نداء الدَّاعي، وهذا يدلُّ على أنَّ الدَّاعي يدعوهم ويأمرهم بالحضور لموقف القيامة، فيلبُّون دعوته ويسرعون إلى إجابته، {يقول الكافرون}: الذين قد حَضَرَ عذابُهم: {هذا يومٌ عَسِرٌ}؛ كما قال تعالى: {على الكافرين غيرُ يسيرٍ}: مفهوم ذلك أنَّه يسيرٌ سهلٌ على المؤمنين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔