تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القمر (54) — آیت 8

مُّہۡطِعِیۡنَ اِلَی الدَّاعِ ؕ یَقُوۡلُ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا یَوۡمٌ عَسِرٌ ﴿۸﴾
پکارنے والے کی طرف گردن اٹھا کر دوڑنے والے ہوں گے، کافر کہیں گے یہ بڑا مشکل دن ہے۔ En
اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے۔ کافر کہیں گے یہ دن بڑا سخت ہے
En
پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوں گے اور کافر کہیں گے یہ دن تو بہت سخت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ مُّهْطِعِیْنَ اِلَى الدَّاعِ اس بلانے والے کی طرف دوڑتے جاتے ہوں گے۔ یعنی پکارنے والے کی پکار کا جلدی سے جواب دیتے ہوئے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ پکارنے والا انھیں پکارے گا اور قیامت کے میدان میں حاضر ہونے کا حکم دے گا، وہ اس کی پکار پر لبیک کہیں گے اور جلدی سے تعمیل کریں گے۔ ﴿ یَقُوْلُ الْ٘كٰفِرُوْنَ یعنی وہ کفار جن کے سامنے ان کا عذاب موجود ہو گا، کہیں گے: ﴿ هٰؔذَا یَوْمٌ عَسِرٌ یہ بڑا سخت دن ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ عَلَى الْ٘كٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ (المدثر: 10/74) کافروں پر (وہ دن) آسان نہ ہوگا۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دن مومنوں پر بہت آسان ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{مهطعينَ إلى الدَّاعِ}؛ أي: مسرعين لإجابة نداء الدَّاعي، وهذا يدلُّ على أنَّ الدَّاعي يدعوهم ويأمرهم بالحضور لموقف القيامة، فيلبُّون دعوته ويسرعون إلى إجابته، {يقول الكافرون}: الذين قد حَضَرَ عذابُهم: {هذا يومٌ عَسِرٌ}؛ كما قال تعالى: {على الكافرين غيرُ يسيرٍ}: مفهوم ذلك أنَّه يسيرٌ سهلٌ على المؤمنين.