تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القمر (54) — آیت 4

وَ لَقَدۡ جَآءَہُمۡ مِّنَ الۡاَنۡۢبَآءِ مَا فِیۡہِ مُزۡدَجَرٌ ۙ﴿۴﴾
اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس کئی خبریںآئی ہیں، جن میں باز آنے کا سامان ہے۔ En
اور ان کو ایسے حالات (سابقین) پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے
En
یقیناً ان کے پاس وه خبریں آچکی ہیں جن میں ڈانٹ ڈپٹ (کی نصیحت) ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا مقصد صحیح ہے نہ اتباع ہدایت۔ ﴿ وَلَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنَ الْاَنْۢبـَآءِ اور یقیناً ان کے پاس ایسی خبریں پہنچ چکی ہیں۔ یعنی سابقہ اور موجودہ خبریں اور معجزات ظاہرہ ﴿ مَا فِیْهِ مُزْدَجَرٌجن میں تنبیہ و نصیحت ہے۔ یعنی ایک ایسا امر ہے جو ان کی گمراہی پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقال تعالى مبيِّناً أنَّهم ليس لهم قصدٌ صحيحٌ واتباعٌ للهدى: {ولقد جاءهم من الأنباءِ}؛ [أي: الأخبار السابقة واللاحقة والمعجزات الظاهرة] {ما فيه مُزْدَجَرٌ}؛ أي: زاجر يزجرهم عن غيِّهم وضلالهم.