(آیت 4) {وَلَقَدْجَآءَهُمْمِّنَالْاَنْۢبَآءِ …: ”نَبَأٌ“} کسی اہم خبر کو کہتے ہیں، {”الْاَنْۢبَآءِ“} اس کی جمع ہے۔ {”مُزْدَجَرٌ“”زَجَرَيَزْجُرُزَجْرًا“} (ن) (روکنا، منع کرنا، ڈانٹنا) سے بات افتعال کا مصدر میمی ہے، جس کا معنی ”باز آنا“ ہے۔ کہا جاتا ہے: {”زَجَرْتُهُفَازْدَجَرَ“} ”میں نے اسے منع کیا تو وہ باز آ گیا۔“ یہ اصل میں {”مُزْتَجَرٌ“} (بروزن {مُفْتَعَلٌ}) تھا، ”زاء“ کی وجہ سے باب افتعال کی ”تاء“ کو دال سے بدل دیا تو {”مُزْدَجَرٌ“} ہو گیا۔ تنوین اس میں تعظیم کے لیے ہے۔ یعنی قرآن کی صورت میں ان کے پاس رسولوں کو جھٹلانے والی اقوام کی خبروں میں سے ایسی اہم خبریں یقینا پہنچی ہیں جن میں آدمی کے لیے ہوائے نفس کی پیروی اور رسولوں کی تکذیب سے باز آنے کا مکمل سامان موجود ہے۔ اگلی آیات میں ان میں سے چند خبروں کا ذکر فرمایا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
4۔ 1 یعنی گذشتہ امتوں کی ہلاکت کی، جب انہوں نے جھٹلایا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ ان لوگوں کو (پہلی قوموں کی) خبریں مل چکی ہیں جن میں کافی تنبیہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کا مقصد صحیح ہے نہ اتباع ہدایت۔ ﴿ وَلَقَدْجَآءَهُمْمِّنَالْاَنْۢبـَآءِ﴾”اور یقیناً ان کے پاس ایسی خبریں پہنچ چکی ہیں۔“ یعنی سابقہ اور موجودہ خبریں اور معجزات ظاہرہ ﴿ مَافِیْهِمُزْدَجَرٌ ﴾”جن میں تنبیہ و نصیحت ہے۔“ یعنی ایک ایسا امر ہے جو ان کی گمراہی پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقال تعالى مبيِّناً أنَّهم ليس لهم قصدٌ صحيحٌ واتباعٌ للهدى: {ولقد جاءهم من الأنباءِ}؛ [أي: الأخبار السابقة واللاحقة والمعجزات الظاهرة] {ما فيه مُزْدَجَرٌ}؛ أي: زاجر يزجرهم عن غيِّهم وضلالهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔