تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَنَبِّئْهُمْاَنَّالْمَآءَقِسْمَةٌۢبَیْنَهُمْ ﴾ یعنی ان کو آگاہ کر دیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا، یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور ایک مقرر دن ان کے پانی پینے کے لیے ہے۔ ﴿ كُ٘لُّشِرْبٍمُّحْتَضَرٌ﴾”ہر ایک (اپنی) باری پر حاضر ہوگا۔“ یعنی اس روز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہو گی اور جس کی باری نہ ہو گی اس کے لیے پانی پر آنے کی ممانعت ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ونبِّئْهم أنَّ الماءَ قسمةٌ بينهم}؛ أي: وأخبرهم أنَّ الماء؛ أي: موردهم الذي يستعذبونه، قسمةٌ بينهم وبين الناقة، لها شِرْبُ يوم ولهم شِرْبُ يوم آخر معلوم. {كلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ}؛ أي: يحضره من كان قسمته، ويُحْظَر على من ليس بقسمة له.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔