(آیت 28){ وَنَبِّئْهُمْاَنَّالْمَآءَقِسْمَةٌۢبَيْنَهُمْ …:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورئہ شعراء (۱۵۵) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28۔ 1 یعنی ایک دن اونٹنی کے پانی پینے کے لئے اور ایک دن قوم کے پانی پینے کے لئے۔ 28۔ 2 مطلب ہے ہر ایک کا حصہ اس کے ساتھ ہی خاص ہے جو اپنی اپنی باری پر حاضر ہو کر وصول کرے دوسرا اس روز نہ آئے شُرَب حصہ آب۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ اور انہیں آگاہ کر دو کہ پانی ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا۔ ہر ایک اپنی باری [22] پر (پانی پر) آئے گا۔
[22] ناقۃ اللہ کی صفات اور قوم کی آزمائش :۔
یہ دیوہیکل اونٹنی قوم ثمود کے مطالبہ پر انہیں بطور معجزہ دی گئی تھی۔ اسی لیے اسے ناقۃ اللہ یا اللہ کی اونٹنی کے نام سے موسوم کیا گیا۔ یہ جہاں بھی جاتی تھی دوسرے جانور ڈر کے مارے بھاگ جاتے تھے۔ لہٰذا اس اونٹنی کا احترام اس قوم کے لیے ایک آزمائش بن گیا تھا۔ بالآخر وحی الٰہی کے مطابق یہ طے ہوا کہ ایک دن بستی کے کنوئیں سے یہ اونٹنی پانی پئے گی اور دوسرے دن قوم کے دوسرے جانور، ساتھ ہی قوم کو آگاہ کر دیا گیا اگر تم اس فیصلہ میں رد و بدل کرو گے یا اس اونٹنی کو کوئی دکھ پہنچاؤ گے تو پھر تمہاری خیر نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَنَبِّئْهُمْاَنَّالْمَآءَقِسْمَةٌۢبَیْنَهُمْ ﴾ یعنی ان کو آگاہ کر دیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا، یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور ایک مقرر دن ان کے پانی پینے کے لیے ہے۔ ﴿ كُ٘لُّشِرْبٍمُّحْتَضَرٌ﴾”ہر ایک (اپنی) باری پر حاضر ہوگا۔“ یعنی اس روز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہو گی اور جس کی باری نہ ہو گی اس کے لیے پانی پر آنے کی ممانعت ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ونبِّئْهم أنَّ الماءَ قسمةٌ بينهم}؛ أي: وأخبرهم أنَّ الماء؛ أي: موردهم الذي يستعذبونه، قسمةٌ بينهم وبين الناقة، لها شِرْبُ يوم ولهم شِرْبُ يوم آخر معلوم. {كلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ}؛ أي: يحضره من كان قسمته، ويُحْظَر على من ليس بقسمة له.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔