تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القمر (54) — آیت 27

اِنَّا مُرۡسِلُوا النَّاقَۃِ فِتۡنَۃً لَّہُمۡ فَارۡتَقِبۡہُمۡ وَ اصۡطَبِرۡ ﴿۫۲۷﴾
بے شک ہم یہ اونٹنی ان کی آزمائش کے لیے بھیجنے والے ہیں، سو ان کا انتظار کر اور اچھی طرح صبر کر۔ En
(اے صالح) ہم ان کی آزمائش کے لئے اونٹنی بھیجنے والے ہیں تو تم ان کو دیکھتے رہو اور صبر کرو
En
بیشک ہم ان کی آزمائش کے لیے اونٹنی بھیجیں گے پس (اے صالح) توان کا منتظر ره اور صبر کر En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی بھیجی جو ان کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کی ایک نعمت تھی۔ وہ اس کا دودھ دوہتے تھے جو ان سب کے لیے کافی ہوتا تھا۔ ﴿ فِتْنَةً لَّهُمْ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اونٹنی ان کی آزمائش اور امتحان کے طور پر تھی۔ ﴿فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ پس ان کو دعوت دینے پر ڈٹے رہیے اور منتظر رہیے کہ ان پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یا اس بات کے منتظر رہیے کہ آیا وہ ایمان لاتے ہیں یا کفر ہی پر ڈٹے رہتے ہیں؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لا جرم عاقبهم الله حين اشتدَّ طغيانُهم، فأرسل الله الناقة التي هي من أكبر النعم عليهم آية من آيات الله ونعمة؛ يحلبونَ من دَرِّها ما يكفيهم أجمعين، {فتنةً لهم}؛ أي: اختباراً منه لهم وامتحاناً، {فارتَقِبْهم واصْطَبِر}؛ أي: اصبر على دعوتك إيَّاهم وارتقبْ ما يحلُّ بهم، أو ارتقبْ هل يؤمنون أو يكفُرون.