تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القمر (54) — آیت 18

کَذَّبَتۡ عَادٌ فَکَیۡفَ کَانَ عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۱۸﴾
عاد نے جھٹلادیا تو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا؟ En
عاد نے بھی تکذیب کی تھی سو (دیکھ لو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا
En
قوم عاد نے بھی جھٹلایا پس کیسا ہوا میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

عاد یمن کا ایک معروف قبیلہ ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا جو انھیں توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے مگر انھوں نے حضرت ہود علیہ السلام کو جھٹلایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر ﴿ رِیْحًا صَرْصَرًا سخت طوفانی ہوا بھیجی ﴿ فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ منحوس دن میں۔ جس کا عذاب بہت سخت اور ان کے لیے بہت بدبختی والا تھا۔ ﴿ مُّسْتَمِرٍّ جو ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دنوں تک انھیں فنا کرنے کے لیے چلتی رہی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وعادٌ هي القبيلة المعروفة باليمن، أرسل الله إليهم هوداً عليه السلام يدعوهم إلى توحيد الله وعبادته، فكذَّبوه، فأرسل الله عليهم {ريحاً صرصراً}؛ أي: شديدة جدًّا. {في يوم نحسٍ}؛ أي: شديد العذاب والشقاء عليهم {مستمِّرٍ}: عليهم سبع ليال وثمانية أيام حسوماً.