(آیت 19،18){ كَذَّبَتْعَادٌفَكَيْفَكَانَعَذَابِيْوَنُذُرِ …:} ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورئہ حم السجدہ (۱۵، ۱۶) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ قوم عاد نے (بھی) جھٹلایا تھا۔ پھر (دیکھ لو) میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کفار کی بدترین روایات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے، تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی، وہ دن ان کے لیے سراسر منحوس تھا، برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لیے گئے، ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا، یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا، پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا، سر کچل جاتا، بھیجا نکل پڑتا، سر الگ، دھڑ الگ، ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں، دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کر لے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عاد یمن کا ایک معروف قبیلہ ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا جو انھیں توحید اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے مگر انھوں نے حضرت ہود علیہ السلام کو جھٹلایا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر ﴿ رِیْحًاصَرْصَرًا﴾ سخت طوفانی ہوا بھیجی ﴿ فِیْیَوْمِنَحْسٍ﴾”منحوس دن میں۔“ جس کا عذاب بہت سخت اور ان کے لیے بہت بدبختی والا تھا۔ ﴿ مُّسْتَمِرٍّ﴾ جو ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دنوں تک انھیں فنا کرنے کے لیے چلتی رہی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وعادٌ هي القبيلة المعروفة باليمن، أرسل الله إليهم هوداً عليه السلام يدعوهم إلى توحيد الله وعبادته، فكذَّبوه، فأرسل الله عليهم {ريحاً صرصراً}؛ أي: شديدة جدًّا. {في يوم نحسٍ}؛ أي: شديد العذاب والشقاء عليهم {مستمِّرٍ}: عليهم سبع ليال وثمانية أيام حسوماً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔