تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 61

وَ اَنۡتُمۡ سٰمِدُوۡنَ ﴿۶۱﴾
اور تم غافل ہو۔ En
اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو
En
(بلکہ) تم کھیل رہے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاَنْتُمْ سٰؔمِدُوْنَ اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو۔ یعنی تم اس سے اور اس پر تدبر کرنے سے غافل ہو، یہ غفلت تمھاری قلت عقل اور تمھارے دین کی کھوٹ پر دلالت کرتی ہے۔ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہوتی اور اپنے تمام احوال میں اس کی رضا کے طلب گار رہے ہوتے تو تمھیں یہ بدلہ نہ ملتا جسے عقل مند لوگ ناپسند کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأنتُم سامدونَ}؛ أي: غافلون لاهون عنه وعن تدبُّره ، وهذا من قلَّة عقولكم وأديانكم؛ فلو عبدتم الله وطلبتم رضاه في جميع الأحوال؛ لما كنتُم بهذه المثابة التي يأنف منها أولو الألباب.