(آیت 61){ وَاَنْتُمْسٰمِدُوْنَ: ”سَمَدَيَسْمُدُسُمُوْدًا“} (ن) کھیل کود میں مشغول ہونا، غافل ہونا، گانا، تکبر سے سر اٹھا کر چلنا۔ یعنی بجائے رونے کے تم کھیل کود، گانے بجانے اور اپنے تکبر میں غافل رہ کر ہنستے پھرتے ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
61۔ تم کھیل کود میں پڑ کر اس سے غافل ہو چکے ہو
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاَنْتُمْسٰؔمِدُوْنَ﴾”اور تم غفلت میں پڑ رہے ہو۔“ یعنی تم اس سے اور اس پر تدبر کرنے سے غافل ہو، یہ غفلت تمھاری قلت عقل اور تمھارے دین کی کھوٹ پر دلالت کرتی ہے۔ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی ہوتی اور اپنے تمام احوال میں اس کی رضا کے طلب گار رہے ہوتے تو تمھیں یہ بدلہ نہ ملتا جسے عقل مند لوگ ناپسند کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأنتُم سامدونَ}؛ أي: غافلون لاهون عنه وعن تدبُّره ، وهذا من قلَّة عقولكم وأديانكم؛ فلو عبدتم الله وطلبتم رضاه في جميع الأحوال؛ لما كنتُم بهذه المثابة التي يأنف منها أولو الألباب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔