تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 60

وَ تَضۡحَکُوۡنَ وَ لَا تَبۡکُوۡنَ ﴿ۙ۶۰﴾
اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو۔ En
اور ہنستے ہو اور روتے نہیں؟
En
اور ہنس رہے ہو؟ روتے نہیں؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَتَضْحَكُوْنَ وَلَا تَبْكُوْنَ اور تم ہنستے ہو، روتے نہیں ہو۔ یعنی تم اس کی تضحیک کرنے اور تمسخر اڑانے میں جلدی کر رہے ہو، حالانکہ چاہیے تو یہ تھا کہ اس کے اوامر و نواہی کو سن کر، اس کے وعد و وعید پر توجہ دے کر، اور اس کی سچی اور اچھی خبروں کی طرف التفات کر کے نفوس اس سے متاثر ہوتے، دل نرم پڑتے اور آنکھیں رو پڑتیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وتضحكون ولا تبكونَ}؛ أي: تستعجلون الضَّحك والاستهزاء به، مع أنه الذي ينبغي أن تتأثَّر منه النفوس وتلين له القلوب وتبكي له العيون؛ سماعاً لأمره ونهيه، وإصغاءً لوعده ووعيده، والتفاتاً لأخباره الصادقة الحسنة.