تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 56

ہٰذَا نَذِیۡرٌ مِّنَ النُّذُرِ الۡاُوۡلٰی ﴿۵۶﴾
یہ پہلے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والا ہے۔ En
یہ (محمدﷺ) بھی اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں
En
یہ (نبی) ڈرانے والے ہیں پہلے ڈرانے والوں میں سے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿هٰؔذَا نَذِیْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى یہ (رسول) تو پہلے ڈرانے والوں میں سے ایک ڈرانے والا ہے۔ یعنی یہ قریشی، ہاشمی رسول محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں بلکہ آپ سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں، جنھوں نے اسی چیز کی طرف دعوت دی تھی، جس کی طرف آپ نے دعوت دی ہے، تب آپ کی رسالت کا کس وجہ سے انکار کیا جا سکتا ہے اور کون سی دلیل ہے جس کی بنیاد پر آپ کی رسالت کو باطل ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ کیا آپ کے اخلاق تمام انبیاء و مرسلین کرام کے اخلاق سے اعلیٰ و ارفع نہیں ہیں؟ کیا آپ ہر بھلائی کی طرف دعوت نہیں دیتے اور ہر برائی سے نہیں روکتے؟ کیا آپ قرآن کریم لے کر تشریف نہیں لائے، جس کے آگے سے باطل آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، جو حکمت والی قابل حمد و ستائش ہستی کی طرف سے اتارا ہوا ہے؟آپ سے پہلے جن لوگوں نے انبیائے کرام کو جھٹلایا، کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک نہیں کیا؟ تب سیدالمرسلین، امام المتقین اور قَائِدُ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والوں پر عذاب نازل ہونے سے کیا چیز مانع ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{هذا نذيرٌ من النُّذُر الأولى}؛ أي: هذا الرسول القرشيُّ الهاشميُّ محمد بن عبد الله ليس ببدع من الرسل، بل قد تقدَّمه من الرسل السابقين، ودعوا إلى ما دعا إليه؛ فلأيِّ شيءٍ تنكر رسالته؟! وبأيِّ حجَّة تبطل دعوته؟! أليست أخلاقه أعلى أخلاق الرسل الكرام؟! أليس يدعو إلى كلِّ خير وينهى عن كل شرٍّ ؟! ألم يأت بالقرآن الكريم الذي لا يأتيه الباطلُ من بين يديهِ ولا من خلفه تنزيلٌ من حكيمٍ حميدٍ؟! ألم يُهلك الله مَن كَذَّب مَن قبله من الرسل الكرام؟! فما الذي يمنع العذابَ عن المكذِّبين لمحمد سيِّد المرسلين وإمام المتَّقين وقائد الغرِّ المحجَّلين؟!