تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 55

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکَ تَتَمَارٰی ﴿۵۵﴾
پس تو اپنے رب کی نعمتوںمیں سے کس میں شک کرے گا؟ En
تو (اے انسان) تو اپنے پروردگار کی کون سی نعمت پر جھگڑے گا
En
پس اے انسان تو اپنے رب کی کس کس نعمت کے بارے میں جھگڑے گا؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارٰى پھر اے انسان! تو اپنے رب کی کون کون سے نعمتوں میں شک کرے گا؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بالکل ظاہر ہیں جو کسی بھی لحاظ سے شک کے قابل نہیں۔ پس بندوں کو جو بھی نعمت عطا ہوئی وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا کردہ ہے اور اس کے سوا کوئی مصائب کو دور نہیں کر سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فبأيِّ آلاءِ ربِّك تتمارى}؛ أي: فبأيِّ نعم الله وفضله تشكُّ أيُّها الإنسان؛ فإنَّ نعم الله ظاهرةٌ لا تقبل الشكَّ بوجه من الوجوه؛ فما بالعباد من نعمةٍ إلاَّ منه تعالى، ولا يدفع النِّقَم إلاَّ هو.