(آیت 55) {فَبِاَيِّاٰلَآءِرَبِّكَتَتَمَارٰى: ”تَمَارٰييَتَمَارٰيتَمَارِيًا“} (تفاعل) شک کرنا۔ {”اٰلَآءِ“”إِلًي“} (جو اصل میں {”إِلَيٌ“} تھا) کی جمع ہے، نعمتیں، جیسا کہ {”مِعًي“} کی جمع {”أَمْعَاءُ“} ہے، انتڑیاں۔ یہاں سوال ہے کہ ان اقوام کی ہلاکت کے ذکر میں کون سی نعمت بیان ہوئی ہے جس میں شک کی گنجائش ہی نہیں۔ استاد محمد عبدہ لکھتے ہیں: ”سیاقِ کلام کی بنا پر یہاں نعمت سے مراد ظالم و سرکش قوم کی تباہی ہے، معلوم ہوا کہ کسی ظالم و سرکش قوم کو تباہ کرنا بھی انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔“ (اشرف الحواشی) ایک جواب اس کا یہ ہے کہ ظلم اور سرکشی کے انجام سے آگاہ کر دینا بھی بہت بڑا انعام ہے، جیسا کہ سورۂ رحمن میں مجرموں کے لیے جہنم کا عذاب بیان کرنے کے بعد فرمایا: «فَبِاَيِّاٰلَآءِرَبِّكُمَاتُكَذِّبٰنِ» } [الرحمٰن: ۴۵]”تو تم دونوں اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس کو جھٹلاؤ گے؟ “
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
55۔ 1 یا شک کرے گا اور ان کو جھٹلائے گا، جب کہ وہ اتنی عام اور واضح ہیں کہ ان کا انکار ممکن ہے اور نہ چھپانا ہی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
55۔ پس تو (اے انسان!) اپنے پروردگار کی کن کن نعمتوں [37] میں شک کرے [38] گا؟
[37] ظالم قوموں کی تباہی بھی بنی نوع انسان کے لئے نعمت ہے :۔
اللہ کی بنی نوع انسان پر سب بڑی نعمت یہ ہے کہ وہ ظالم اور سرکش قوموں کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دے۔ تاکہ باقی لوگوں کو ان کے ظلم و ستم سے نجات ملے اور وہ بھی دنیا میں چین سے زندگی بسر کر سکیں۔ گویا سب ظالم قوموں کی تباہی بھی اللہ کی نعمتیں تھیں اور انسانیت پر احسانات تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس نعمت کا ذکر ایک دوسرے مقام پر بڑے واشگاف الفاظ میں یوں بیان فرمایا: ﴿وَلَوْلَادَفْعُاللّٰهِالنَّاسَبَعْضَهُمْبِبَعْضٍلَّفَسَدَتِالْاَرْضُوَلٰكِنَّاللّٰهَذُوْفَضْلٍعَلَيالْعٰلَمِيْنَ﴾[251:2] [38]﴿تَتَمَارٰي﴾ کے معنی شک کرنا بھی ہے اور جھگڑا کرنا بھی۔ یعنی تاریخ سے اتنی مثالیں پیش کرنے کے بعد بھی تجھے اس بات میں کچھ شک رہ جاتا ہے کہ جس قوم نے بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کے سامنے اکڑ دکھائی اسے آخر تباہی سے دو چار ہونا پڑا؟ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہو گا کہ جیسے وہ لوگ اپنے نبیوں سے جھگڑا کرتے رہے کیا تو بھی انہیں باتوں میں جھگڑا کرے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿فَبِاَیِّاٰلَآءِرَبِّكَتَتَمَارٰى ﴾”پھر اے انسان! تو اپنے رب کی کون کون سے نعمتوں میں شک کرے گا؟“ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بالکل ظاہر ہیں جو کسی بھی لحاظ سے شک کے قابل نہیں۔ پس بندوں کو جو بھی نعمت عطا ہوئی وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے عطا کردہ ہے اور اس کے سوا کوئی مصائب کو دور نہیں کر سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فبأيِّ آلاءِ ربِّك تتمارى}؛ أي: فبأيِّ نعم الله وفضله تشكُّ أيُّها الإنسان؛ فإنَّ نعم الله ظاهرةٌ لا تقبل الشكَّ بوجه من الوجوه؛ فما بالعباد من نعمةٍ إلاَّ منه تعالى، ولا يدفع النِّقَم إلاَّ هو.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔