تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 5

عَلَّمَہٗ شَدِیۡدُ الۡقُوٰی ۙ﴿۵﴾
اسے نہایت مضبوط قوتوں والے (فرشتے) نے سکھایا۔ En
ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا
En
اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معلم کا ذکر فرمایا اور وہ ہیں جبریل علیہ السلام، جو مکرم فرشتوں میں سب سے افضل، سب سے قوی اور سب سے کامل ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰى یعنی جبریل علیہ السلام جو نہایت طاقتور ظاہری اور باطنی قویٰ کے مالک ہیں، اس وحی کو لے کر رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے۔ حضرت جبریل اس حکم کو نافذ کرنے میں، جس کو نافذ کرنے کا اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا، بہت طاقتور ہیں۔ اس وحی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے اور اس کو شیاطین کے اچک لینے سے بچانے اور اس کے اندر ان کی دخل اندازی سے حفاظت کرنے میں یہ قوی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی وحی کی حفاظت ہے کہ اس نے اس وحی کو ایسے پیغامبر فرشتے کے ساتھ بھیجا جو نہایت طاقتور اور امانت دار ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر المعلِّم للرسول [- صلى الله عليه وسلم -]، وهو جبريل عليه السلام، أفضل الملائكة الكرام وأقواهم وأكملهم، فقال: {علَّمه شديدُ القُوى}؛ أي: نزل بالوحي على الرسول - صلى الله عليه وسلم - جبريلُ عليه السلام، شديدُ القُوى؛ أي: شديد القوَّة الظاهرة والباطنة، قويٌّ على تنفيذ ما أمره الله بتنفيذه، قويٌّ على إيصال الوحي إلى الرسول - صلى الله عليه وسلم - ومنعه من اختلاس الشياطين له أو إدخالهم فيه ما ليس منه، وهذا من حفظ الله لوحيه؛ أنْ أرسلَه مع هذا الرسول القويِّ الأمين.