تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 29

فَاَعۡرِضۡ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰی ۬ۙ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ لَمۡ یُرِدۡ اِلَّا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا ﴿ؕ۲۹﴾
سو اس سے منہ پھیرلے جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑا اور جس نے دنیا کی زندگی کے سوا کچھ نہ چاہا۔ En
تو جو ہماری یاد سے روگردانی اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو
En
تو آپ اس سے منھ موڑ لیں جو ہماری یاد سے منھ موڑے اور جن کا اراده بجز زندگانیٴ دنیا کے اور کچھ نہ ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ ان مشرکین کی عادت یہ ہے کہ انھیں اتباعِ حق سے کوئی غرض نہیں، ان کی غرض و غایت اور ان کا مقصد تو خواہشات نفس کی پیروی کرنا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ اس شخص سے منہ موڑ لیں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، جو کہ حکمت سے لبریز ہے، اور قرآن عظیم سے اعراض کرتا ہے، پس اس نے گویا علوم نافعہ سے منہ موڑا۔ وہ دنیا کی زندگی کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔ پس یہ اس کے ارادے کی انتہا ہے۔یہ چیز معلوم اور متحقق ہے کہ بندہ صرف اسی چیز کے لیے عمل کرتا ہے جس کا وہ ارادہ کرتا ہے۔ پس ان لوگوں کی کوشش اور دوڑ دھوپ، دنیا اور اس کی لذات و شہوات تک محدود ہے۔ یہ لذات و شہوات جیسے بھی حاصل ہوتی ہے یہ انھیں حاصل کرتے ہیں اور جس کے راستے سے بھی ان کا حصول آسان ہو یہ اس کی طرف لپکتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما كان هذا دأب هؤلاء المذكورين، أنَّهم لا غرض لهم في اتِّباع الحقِّ، وإنَّما غرضهم ومقصودهم ما تهواه نفوسُهم؛ أمر الله رسوله بالإعراض عن من تولَّى عن ذكرِهِ، الذي هو الذكرُ الحكيم والقرآنُ العظيم [والنبأ الكريم]، فأعرضَ عن العلوم النافعة، ولم يُرِدْ إلاَّ الحياة الدنيا؛ فهذا منتهى إرادتِه. ومن المعلوم أن العبد لا يعمل إلاَّ للشيء الذي يريدُه؛ فسعيُ هؤلاء مقصورٌ على الدُّنيا ولذَّاتها وشهواتها كيف حصلتْ حَصَّلوها، وبأيِّ طريق سنحت ابتدروها.