ترجمہ و تفسیر — سورۃ النجم (53) — آیت 29

فَاَعۡرِضۡ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰی ۬ۙ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ لَمۡ یُرِدۡ اِلَّا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا ﴿ؕ۲۹﴾
سو اس سے منہ پھیرلے جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑا اور جس نے دنیا کی زندگی کے سوا کچھ نہ چاہا۔ En
تو جو ہماری یاد سے روگردانی اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو
En
تو آپ اس سے منھ موڑ لیں جو ہماری یاد سے منھ موڑے اور جن کا اراده بجز زندگانیٴ دنیا کے اور کچھ نہ ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29){ فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى عَنْ ذِكْرِنَا …:} یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ {فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ} (سو ان سے منہ پھیر لے) یہ فرمایا: «‏‏‏‏فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى عَنْ ذِكْرِنَا» (سو اس سے منہ پھیر لے جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑا) تاکہ ان مشرکین سے اعراض کی وجہ بھی سامنے آ جائے کہ جو شخص ہماری وحی کے ذریعے سے آنے والی نصیحت کی طرف توجہ دینے کے لیے تیار ہی نہیں، بلکہ جان بوجھ کر اس سے منہ موڑے ہوئے ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا اس نے کچھ چاہا ہی نہیں ہے،آپ بھی اس کے پیچھے نہ پڑیں اور نہ ہی اس کی خاطر وقت ضائع کریں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ لہٰذا جو شخص ہماری یاد سے [19] منہ موڑتا ہے آپ اس کی پروا نہ کیجئے، ایسا شخص دنیا کی زندگی کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا
[19] ذکر سے مراد قرآن کریم بھی ہو سکتا ہے اور معبود ان باطل کے مقابلہ میں خالص اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے دعوت حق اور وعظ و نصیحت بھی یعنی جو شخص میرا ذکر سننا گوارا ہی نہیں کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے سمجھانے پر اپنا وقت ضائع نہ کیجئے۔ ایسے لوگوں کا منتہائے مقصود صرف دنیوی مفادات ہی ہوتے ہیں جبکہ یہ تعلیم اخروی فلاح کی طرف بلاتی ہے۔ جس پر نہ ان کا ایمان ہے اور نہ انہیں اس کی ضرورت ہے۔ لہٰذا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کی طرف کیوں توجہ دیں گے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ ان مشرکین کی عادت یہ ہے کہ انھیں اتباعِ حق سے کوئی غرض نہیں، ان کی غرض و غایت اور ان کا مقصد تو خواہشات نفس کی پیروی کرنا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ اس شخص سے منہ موڑ لیں جو اللہ تعالیٰ کے ذکر، جو کہ حکمت سے لبریز ہے، اور قرآن عظیم سے اعراض کرتا ہے، پس اس نے گویا علوم نافعہ سے منہ موڑا۔ وہ دنیا کی زندگی کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔ پس یہ اس کے ارادے کی انتہا ہے۔یہ چیز معلوم اور متحقق ہے کہ بندہ صرف اسی چیز کے لیے عمل کرتا ہے جس کا وہ ارادہ کرتا ہے۔ پس ان لوگوں کی کوشش اور دوڑ دھوپ، دنیا اور اس کی لذات و شہوات تک محدود ہے۔ یہ لذات و شہوات جیسے بھی حاصل ہوتی ہے یہ انھیں حاصل کرتے ہیں اور جس کے راستے سے بھی ان کا حصول آسان ہو یہ اس کی طرف لپکتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما كان هذا دأب هؤلاء المذكورين، أنَّهم لا غرض لهم في اتِّباع الحقِّ، وإنَّما غرضهم ومقصودهم ما تهواه نفوسُهم؛ أمر الله رسوله بالإعراض عن من تولَّى عن ذكرِهِ، الذي هو الذكرُ الحكيم والقرآنُ العظيم [والنبأ الكريم]، فأعرضَ عن العلوم النافعة، ولم يُرِدْ إلاَّ الحياة الدنيا؛ فهذا منتهى إرادتِه. ومن المعلوم أن العبد لا يعمل إلاَّ للشيء الذي يريدُه؛ فسعيُ هؤلاء مقصورٌ على الدُّنيا ولذَّاتها وشهواتها كيف حصلتْ حَصَّلوها، وبأيِّ طريق سنحت ابتدروها.