تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 28

وَ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ ؕ اِنۡ یَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ الۡحَقِّ شَیۡئًا ﴿ۚ۲۸﴾
حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور بے شک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔ En
حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں۔ وہ صرف ظن پر چلتے ہیں۔ اور ظن یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا
En
حاﻻنکہ انہیں اس کا کوئی علم نہیں وه صرف اپنے گمان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور بیشک وہم (و گمان) حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں دیتا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مشرکین اس بارے میں بدترین قول کی پیروی کر رہے ہیں اور وہ ہے محض ظن و گمان جو حق کے مقابلے میں کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ حق کے لیے ایسے یقین کا وجود ضروری ہے جو نہایت روشن دلائل و براہین سے مستفاد ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والمشركون إنَّما يتَّبعون في ذلك القول القبيح، وهو الظنُّ الذي لا يُغني من الحقِّ شيئاً؛ فإنَّ الحقَّ لا بدَّ فيه من اليقين المستفاد من الأدلَّة [القاطعة] والبراهين الساطعة.