تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 17

مَا زَاغَ الۡبَصَرُ وَ مَا طَغٰی ﴿۱۷﴾
نہ نگاہ ادھر ادھر ہوئی اور نہ حد سے آگے بڑھی۔ En
ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی
En
نہ تو نگاه بہکی نہ حد سے بڑھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ مَا زَاغَ الْ٘بَصَرُ یعنی نگاہ اپنے مقصود سے ہٹ کر دائیں بائیں نہیں ہوئی۔ ﴿ وَمَا طَغٰى اور نہ نگاہ ہی نے اپنے مقصود سے تجاوز ہی کیا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال ادب ہے کہ آپ اس مقام پر کھڑے رہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو کھڑا کیا، آپ اس مقام سے پیچھے ہٹے نہ اس سے تجاوز کیا اور نہ ادھر ادھر ہی انحراف کیا۔ یہ کامل ترین ادب ہے جس میں آپ اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے۔ مندرجہ ذیل امور میں سے کسی ایک پر عمل کرنے سے کمال ادب میں خلل واقع ہوتا ہے:
| بندہ ان امور پر قائم نہ رہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔
| اس میں کوتاہی کرے۔
| اس میں افراط سے کام لے۔
| اس سے قائم رہتے ہوئے دائیں بائیں التفات کرے۔
مذکورہ تمام امور میں سے ایک بھی نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر موجود نہ تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ما زاغ البصرُ }؛ أي: ما زاغ يمنةً ولا يسرةً عن مقصوده {وما طغى}؛ أي: وما تجاوز البصر. وهذا كمال الأدب منه صلوات الله وسلامه عليه؛ أنْ قام مقاماً أقامه الله فيه، ولم يقصِّرْ عنه ولا تجاوزه ولا حاد عنه، وهذا أكمل ما يكون من الأدب العظيم، الذي فاق فيه الأوَّلين والآخرين؛ فإنَّ الإخلال يكون بأحد هذه الأمور: إمَّا أن لا يقوم العبدُ بما أُمِر به، أو يقومَ به على وجه التفريط، أو على وجه الإفراط، أو على وجه الحيدةِ يميناً وشمالاً. وهذه الأمور كلُّها منتفيةٌ عنه - صلى الله عليه وسلم -.