(آیت 17) {مَازَاغَالْبَصَرُوَمَاطَغٰى: ”زَاغَيَزِيْغُزَيْغًا“} ٹیڑھا ہونا اور {”طَغٰييَطْغٰيطُغْيَانًا“} حد سے بڑھنا۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالِ ادب، تحمل اور استقامت کا بیان ہے کہ جبریل علیہ السلام کو اور اللہ تعالیٰ کی دوسری آیات کبریٰ کو دیکھتے ہوئے آپ کی نگاہ انھی پر مرکوز رہی، نہ دائیں یا بائیں طرف گئی اور نہ ان سے آگے بڑھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17۔ 1 یعنی نبی کی نگاہیں دائیں بائیں ہوئیں اور نہ حد سے بلند اور متجاوز ہوئیں جو آپ کے لئے مقرر کردی گئی تھی۔ (ایسر التفاسیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ نہ (اس کی) نظر چندھیائی [10] اور نہ آگے نکل گئی
[10] بیری کے اس درخت پر اللہ تعالیٰ کے انوار و تجلیات پڑ کر انتہائی خوشنما منظر پیش کر رہے تھے جس سے آنکھیں چکا چوند ہوتی جاتی تھیں لیکن اتنے انوار و تجلیات کے باوجود جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں چندھیائیں اور نہ ہی نگاہ ایک طرف ہٹ کر، یعنی اس نظارہ کے مقابلہ کی تاب نہ لاتے ہوئے ادھر ادھر چلی گئی۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھیک طرح سے جبریل کو دیکھا تھا اور اللہ تعالیٰ کو جو کچھ دکھانا منظور تھا، وہی کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تھا۔ اسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظریں جمی رہیں ادھر ادھر نہیں گئیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ مَازَاغَالْ٘بَصَرُ﴾ یعنی نگاہ اپنے مقصود سے ہٹ کر دائیں بائیں نہیں ہوئی۔ ﴿ وَمَاطَغٰى﴾ اور نہ نگاہ ہی نے اپنے مقصود سے تجاوز ہی کیا، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال ادب ہے کہ آپ اس مقام پر کھڑے رہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کو کھڑا کیا، آپ اس مقام سے پیچھے ہٹے نہ اس سے تجاوز کیا اور نہ ادھر ادھر ہی انحراف کیا۔ یہ کامل ترین ادب ہے جس میں آپ اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے۔ مندرجہ ذیل امور میں سے کسی ایک پر عمل کرنے سے کمال ادب میں خلل واقع ہوتا ہے:
| بندہ ان امور پر قائم نہ رہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔
| اس میں کوتاہی کرے۔
| اس میں افراط سے کام لے۔
| اس سے قائم رہتے ہوئے دائیں بائیں التفات کرے۔
مذکورہ تمام امور میں سے ایک بھی نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر موجود نہ تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ما زاغ البصرُ }؛ أي: ما زاغ يمنةً ولا يسرةً عن مقصوده {وما طغى}؛ أي: وما تجاوز البصر. وهذا كمال الأدب منه صلوات الله وسلامه عليه؛ أنْ قام مقاماً أقامه الله فيه، ولم يقصِّرْ عنه ولا تجاوزه ولا حاد عنه، وهذا أكمل ما يكون من الأدب العظيم، الذي فاق فيه الأوَّلين والآخرين؛ فإنَّ الإخلال يكون بأحد هذه الأمور: إمَّا أن لا يقوم العبدُ بما أُمِر به، أو يقومَ به على وجه التفريط، أو على وجه الإفراط، أو على وجه الحيدةِ يميناً وشمالاً. وهذه الأمور كلُّها منتفيةٌ عنه - صلى الله عليه وسلم -.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔