تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿عِنْدَهَا﴾ یعنی اس درخت کے پاس ہی ﴿ جَنَّةُالْمَاْوٰى﴾” جنت الماوٰی ہے۔“ یعنی وہ جنت جس میں ہر نعمت جمع ہے۔ یہ ایسا مقام ہے، جو منتہائے آرزو ہے جس کی طرف ارادے راغب رہتے ہیں، جہاں چاہتیں جا کر ٹھہرتی ہے اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جنت بلند ترین مقام ہے اور ساتویں آسمان پر واقع ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
عند تلك الشجرة، {جنَّة المأوى}؛ أي: الجنة الجامعة لكلِّ نعيم؛ بحيث كانت محلًّا تنتهي إليه الأماني، وترغب فيها الإرادات، وتأوي إليها الرغبات. وهذا دليلٌ على أنَّ الجنة في أعلى الأماكن وفوق السماء السابعة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔