تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النجم (53) — آیت 15

عِنۡدَہَا جَنَّۃُ الۡمَاۡوٰی ﴿ؕ۱۵﴾
اسی کے پاس ہمیشہ رہنے کی جنت ہے۔ En
اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے
En
اسی کے پاس جنہ الماویٰ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿عِنْدَهَا یعنی اس درخت کے پاس ہی ﴿ جَنَّةُ الْمَاْوٰى جنت الماوٰی ہے۔ یعنی وہ جنت جس میں ہر نعمت جمع ہے۔ یہ ایسا مقام ہے، جو منتہائے آرزو ہے جس کی طرف ارادے راغب رہتے ہیں، جہاں چاہتیں جا کر ٹھہرتی ہے اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جنت بلند ترین مقام ہے اور ساتویں آسمان پر واقع ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

عند تلك الشجرة، {جنَّة المأوى}؛ أي: الجنة الجامعة لكلِّ نعيم؛ بحيث كانت محلًّا تنتهي إليه الأماني، وترغب فيها الإرادات، وتأوي إليها الرغبات. وهذا دليلٌ على أنَّ الجنة في أعلى الأماكن وفوق السماء السابعة.