تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 47

وَ اِنَّ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا عَذَابًا دُوۡنَ ذٰلِکَ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۷﴾
اور یقینا ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا، اس (آخرت) سے پہلے بھی ایک عذاب ہے، اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔ En
اور ظالموں کے لئے اس کے سوا اور عذاب بھی ہے لیکن ان میں کے اکثر نہیں جانتے
En
بیشک ﻇالموں کے لیے اس کے علاوه اور عذاب بھی ہیں۔ لیکن ان لوگوں میں سے اکثر بےعلم ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ قیامت کے روز ظالموں کے لیے عذاب ہے، آگاہ فرمایا کہ قیامت کے روز عذاب سے پہلے بھی ان کے لیے عذاب ہے اور یہ عذاب قتل کیے جانے، قیدی بنائے جانے، اپنے گھروں سے نکالے جانے، قبر اور برزخ کے عذاب کو شامل ہے ﴿ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ یعنی اسی لیے ایسے کاموں پر جمے ہوئے ہیں جو عذاب اور سخت سزا کے موجب ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذَكَرَ اللهُ عذابَ الظالمين في الآخرة؛ أخبر أنَّ لهم عذاباً قبل عذاب يوم القيامةِ، وذلك شاملٌ لعذاب الدُّنيا بالقتل والسبي والإخراج من الديار، ولعذابِ البرزخ والقبر. {ولكنَّ أكثرهم لا يعلمونَ}؛ أي: فلذلك أقاموا على ما يوجب العذاب وشدة العقاب.