تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تعالیٰ نے اہل تکذیب کے اقوال کے بطلان پر دلائل وبراہین بیان کر دیے تو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ ان مشرکین کی کچھ بھی پروا نہ کریں اور اپنے رب کے حکم قدری و شرعی کا استقامت کے ساتھ التزام کرتے ہوئے اس پر صبر کریں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ وعدہ فرمایا کہ وہ آپ کے لیے کافی ہے۔ فرمایا: ﴿فَاِنَّكَبِاَعْیُنِنَا﴾ یعنی آپ ہمارے سامنے، ہماری حفاظت میں اور آپ کا معاملہ ہمارے زیر عنایت ہے اور آپ کو حکم دیا کہ صبر، ذکر الٰہی اور عبادت سے مدد لیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَسَبِّحْبِحَمْدِرَبِّكَحِیْنَتَقُوْمُ﴾”او ر (اے نبی!) جب آپ کھڑیں ہوں تو اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کیجیے۔“ اس آیت کریمہ میں رات کے قیام کا حکم ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پنجگانہ کے لیے کھڑے ہوں، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ وَمِنَالَّیْلِفَسَبِّحْهُوَاِدْبَ٘ارَؔالنُّجُوْمِ﴾”اور (کچھ حصہ) رات میں بھی، پس آپ اس کی تسبیح کیجیے اور ستاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی۔“ یعنی رات کے آخری حصے میں اور اس میں فجر کی نماز بھی داخل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولمَّا بيَّن تعالى الحجج والبراهين على بطلان أقوال المكذِّبين؛ أمر رسوله - صلى الله عليه وسلم - أن لا يعبأ بهم شيئاً، وأنْ يصبِرَ لحكم ربِّه القدريِّ والشرعيِّ؛ بلزومه والاستقامة عليه، وَوَعَدَهُ الله الكفاية بقوله: {فإنَّك بأعيننا}؛ أي: بمرأى منَّا وحفظٍ واعتناءٍ بأمرك، وأمره أن يستعين على الصبر بالذكر والعبادة، فقال: {وسبِّح بحمد ربِّك حين تقومُ}؛ [أي]: من الليل؛ ففيه الأمر بقيام الليل، أو حين تقومُ إلى الصلوات الخمس؛ بدليل قوله: {ومن الليل فسبِّحْه وإدْبارَ النُّجومِ}؛ أي: آخر الليل، ويدخل فيه صلاة الفجر. والله أعلم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔