تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 46

یَوۡمَ لَا یُغۡنِیۡ عَنۡہُمۡ کَیۡدُہُمۡ شَیۡئًا وَّ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿ؕ۴۶﴾
جس دن نہ ان کی چال ان کے کسی کام آئے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ En
جس دن ان کا کوئی داؤں کچھ بھی کام نہ آئے اور نہ ان کو (کہیں سے) مدد ہی ملے
En
جس دن انہیں ان کا مکر کچھ کام نہ دے گا اور نہ وه مدد کیے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْـًٔؔا جس دن ان کی چالیں (کم یا زیادہ) کچھ کام نہ آئیں گی۔ اگرچہ دنیا کے اندر انھوں نے سازشیں کیں اور ان کے ذریعے سے قلیل سے زمانے تک زندگی گزاری، قیامت کے دن ان کی سازشوں کا تار و پود بکھر جائے گا، ان کی دوڑ دھوپ رائیگاں جائے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہ سکیں گے ﴿ وَّلَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ اور نہ ان کی مدد ہی کی جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يوم لا يُغْني عنهم كيدُهم شيئاً}؛ أي: لا قليلاً ولا كثيراً، وإنْ كان في الدُّنيا قد يوجد منهم كيدٌ يعيشون به زمناً قليلاً؛ فيوم القيامةِ يضمحلُّ كيدُهم، وتبطلُ مساعيهم، ولا ينتصرون من عذاب الله، {ولا هم يُنصَرون}.