تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 45

فَذَرۡہُمۡ حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ فِیۡہِ یُصۡعَقُوۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾
پس انھیں چھوڑ دے، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن کو جا ملیں جس میں وہ بے ہوش کیے جائیں گے۔ En
پس ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ روز جس میں وہ بےہوش کردیئے جائیں گے، سامنے آجائے
En
تو انہیں چھوڑ دے یہاں تک کہ انہیں اس دن سے سابقہ پڑے جس میں یہ بے ہوش کر دیئے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

عذاب اور سخت سزا کے سوا ان لوگوں کا کوئی علاج نہیں۔اس لیے فرمایا: ﴿ فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰ٘قُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَ پس ان کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ دن جس میں وہ بے ہوش کردیے جائیں گے، سامنے آجائے۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے جس میں ان پر عذاب نازل ہو گا جس کی مقدار کا انداز کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان کیا جا سکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهؤلاء لا دواء لهم إلاَّ العذاب والنَّكال، ولهذا قال: {فَذَرْهُم حتى يُلاقوا يومَهم الذي فيه يُصْعَقون}: وهو يوم القيامةِ، الذي يصيبهم فيه من العذاب ما لا يقادَرُ قَدْرُه ولا يوصَف أمرُه.