تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 44

وَ اِنۡ یَّرَوۡا کِسۡفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوۡلُوۡا سَحَابٌ مَّرۡکُوۡمٌ ﴿۴۴﴾
اور اگر وہ آسمان سے گرتاہو ا کوئی ٹکڑا دیکھ لیں تو کہہ دیں گے یہ ایک تہ بہ تہ بادل ہے۔ En
اور اگر یہ آسمان سے (عذاب) کا کوئی ٹکڑا گرتا ہوا دیکھیں تو کہیں کہ یہ گاڑھا بادل ہے
En
اگر یہ لوگ آسمان کے کسی ٹکڑے کو گرتا ہوا دیکھ لیں تب بھی کہہ دیں کہ یہ تہ بہ تہ بادل ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات میں ذکر فرماتا ہے کہ مشرکین جو واضح حق کو جھٹلا رہے ہیں، انھوں نے حق کے مقابلے میں سرکشی اختیار کی اور باطل پر نہایت سختی سے جم گئے ہیں، نیز بیان فرمایا کہ اگر حق کے اثبات کے لیے ہر قسم کی دلیل قائم کر دی جائے تو، پھر بھی وہ اس کی اتباع نہیں کریں گے بلکہ اس کی مخالفت کرتے رہیں گے اور اس سے عناد رکھیں گے ﴿ وَاِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یعنی اگر وہ بہت بڑی نشانیوں میں سے آسمان کا ٹکڑا عذاب بن کر گرتا دیکھیں ﴿ یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْؔكُوْمٌ تو کہیں گے کہ یہ تو عام عادت کے مطابق گہرا بادل ہے۔ یعنی وہ جن آیات الٰہی کا مشاہدہ کریں گے، اس کی پروا کریں گے نہ اس سے عبرت حاصل کریں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى في ذكر بيان أنَّ المشركين المكذِّبين بالحقِّ الواضح قد عَتَوا عن الحقِّ وعسوا على الباطل، وأنَّه لو قام على الحقِّ كلُّ دليل؛ لما اتَّبعوه، ولخالفوه وعاندوه: {وإنْ يروا كِسْفَاً من السماء ساقطاً}؛ أي: لو سقط عليهم من السماء من الآيات الباهرة كِسْفٌ ؛ أي: قطعٌ كبارٌ من العذاب، {يقولوا سحابٌ مركومٌ}؛ أي: هذا سحابٌ متراكمٌ على العادة؛ أي: فلا يبالون بما رأوا من الآيات، ولا يعتبرون بها!