تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 20

مُتَّکِئِیۡنَ عَلٰی سُرُرٍ مَّصۡفُوۡفَۃٍ ۚ وَ زَوَّجۡنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡنٍ ﴿۲۰﴾
ایسے تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے جو قطاروں میں بچھائے ہوئے ہیں اور ہم نے ان کا نکاح سفید جسم، سیاہ آنکھوں والی عورتوں سے کر دیا، جو بڑی بڑی آنکھوں والی ہیں۔ En
تختوں پر جو برابر برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کر دیں گے
En
برابر بچھے ہوئے شاندار تختے پر تکیے لگائے ہوئے۔ اور ہم نے ان کے نکاح بڑی بڑی آنکھوں والی (حوروں) سے کر دیئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ مُتَّـكِـــِٕیْنَ عَلٰى سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ وہ برابر بچھے ہوئے (شاندار) تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔ الاتکاء سے مراد ہے راحت اور قرار کے ساتھ جم کر بیٹھنا۔ اَلسُّرُرُ سے مراد وہ تخت ہیں جو قیمتی پارچات اور خوبصورت بچھونوں سے آراستہ کیے گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا تختوں کا وصف بیان کرنا، کہ وہ صف در صف بچھائے گئے ہوں گے، ان کی کثرت، حسن تنظیم، اہل جنت کے اجتماع، ان کی مسرت، ان کے حسن معاشرت اور باہم ملاطفت پر دلالت کرتا ہے۔ جب ان کے لیے قلب اور بدن و روح کی ایسی ایسی نعمتیں یکجا ہو جائیں گی یعنی لذیذماکولات، مشروبات اور حسین اور دلکش مجالس، جن کا گزر کبھی تصور و خیال میں بھی نہ ہوا ہو گا تو عورتوں کے ساتھ تمتع کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا، جن کے بغیر مسرت کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پس اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ان کے لیے ایسی بیویاں ہوں گی جو اپنے اوصاف، تخلیق اور اخلاق کے اعتبار سے کامل ترین عورتیں ہوں گی۔اس لیے فرمایا: ﴿وَزَوَّجْنٰهُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ہم ان کا عقد کریں گے۔ اس سے مراد وہ عورتیں ہیں، جن میں ظاہری حسن و جمال اور اخلاق فاضلہ جمع ہیں، جو اپنے حسن و جمال سے دیکھنے والوں کو متحیر کر دیتی ہیں اور لوگوں کی عقل سلب کر لیتی ہیں اور دل و صال کی چاہت میں ان کی طرف اڑ کر جاتے ہیں۔ اَلْعَیْنُ سے مراد ملیح اور خوبصورت آنکھوں والی عورتیں جن کی آنکھوں کی سفیدی اور سیاہی نہایت صاف اور واضح ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{متَّكِئينَ على سررٍ مصفوفةٍ}: الاتِّكاء هو الجلوس على وجه التمكُّن والراحة والاستقرار، والسرر هي الأرائك المزيَّنة بأنواع الزينة من اللباس الفاخر والفرش الزاهية. ووصف الله السُّرر بأنها مصفوفةٌ؛ ليدلَّ ذلك على كثرتها وحسن تنظيمها واجتماع أهلها وسرورهم بحسن معاشرتهم وملاطفة بعضهم بعضاً. فلمَّا اجتمع لهم من نعيم القلب والرُّوح والبدن ما لا يخطُرُ بالبال ولا يدور في الخيال من المآكل والمشارب اللذيذة والمجالس الحسنة الأنيقة؛ لم يبق إلاَّ التمتُّع بالنساء اللاتي لا يتمُّ سرورٌ إلاَّ بهنَّ، فذكر تعالى أنَّ لهم من الأزواج أكمل النساء أوصافاً وخلقاً وأخلاقاً، ولهذا قال: {وزوَّجْناهم بحورٍ عينٍ}: وهنَّ النساء اللواتي قد جَمَعْنَ جمال الصورة الظاهرة وبهاءها ومن الأخلاق الفاضلة ما يوجب أن يحيِّرْنَ بحسنهنَّ الناظرين، ويسلبنَ عقول العالمين، وتكاد الأفئدة أن تطير شوقاً إليهن ورغبةً في وصالهنَّ، والعِيْن: حسان الأعين مليحاتها، التي صفا بياضها وسوادها.