اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد کسی بھی درجے کے ایمان کے ساتھ ان کے پیچھے چلی، ہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان سے ان کے عمل میں کچھ کمی نہ کریں گے، ہر آدمی اس کے عوض جو اس نے کمایا گروی رکھا ہوا ہے۔
En
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی۔ ہم ان کی اولاد کو بھی ان (کے درجے) تک پہنچا دیں گے اور ان کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے۔ ہر شخص اپنے اعمال میں پھنسا ہوا ہے
اور جو لوگ ایمان ﻻئے اور ان کی اوﻻد نے بھی ایمان میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اوﻻد کو ان تک پہنچا دیں گے اور ان کے عمل سے ہم کچھ کم نہ کریں گے، ہر شخص اپنے اپنے اعمال کا گروی ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اہل جنت کی نعمتوں کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ، اہل جنت کے ساتھ ان کی اس اولاد کو بھی لے جائے گا، جنھوں نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی۔ یعنی وہ اس ایمان کی بنا پر ان کے ساتھ جا ملیں گے جو ان کے آباء و اجداد سے صادر ہوا اور اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی۔ اگر اولاد نے اپنے ایمان کے ساتھ جو خود ان سے صادر ہوا، اپنے آباء و اجداد کی اتباع کی تو ان کے اپنے آباء کے ساتھ لاحق ہونا زیادہ اولیٰ ہے۔ ان مذکورہ بالا لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے آباء و اجداد کے ساتھ ان کے مقامات میں ملائے گا، اگرچہ وہ ان مقامات پر نہ جا سکیں گے، یہ الحاق ان کے آباء و اجداد کے لیے جزا اور ان کے ثواب میں اضافہ کے طور پر ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ آباء اجداد کے اعمال میں کوئی کمی واقع نہیں کرے گا۔
چونکہ کسی کو یہ توہم لاحق ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے ساتھ بھی یہی کرے گا، ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملائے گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ جنت اور جہنم کے احکام ایک جیسے نہیں ہیں۔ جہنم دار عدل ہے اور اللہ تعالیٰ کا عدل یہ ہے کہ وہ کسی کو گناہ کے بغیر سزا نہیں دیتا، اس لیے فرمایا: ﴿ كُ٘لُّامْرِئٍۭؔبِمَاكَسَبَرَهِیْنٌ﴾ یعنی ہر شخص اپنے عمل ہی کا گروی ہے۔ کوئی جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھائے گی نہ کسی پر کسی دوسرے کا گناہ ڈالا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا من تمام نعيم [أهلِ] الجنَّة: أنْ ألحَقَ الله بهم ذُرِّيَّتهم الذين اتَّبعوهم بإيمان؛ أي: لحقوهم بالإيمان الصادر من آبائهم، فصارت الذُّرِّية تبعاً لهم بالإيمان، ومن باب أولى؛ إذا تبعتهم ذُرِّيَّتهم بإيمانهم الصادر من أنفسهم؛ فهولاء المذكورون يُلْحِقُهُمُ اللهُ بمنازل آبائهم في الجنة، وإن لم يبلغوها؛ جزاءً لآبائهم، وزيادةً في ثوابهم، ومع ذلك؛ لا يَنْقُصُ اللهُ الآباء من أعمالهم شيئاً. ولمَّا كان ربَّما توهَّم متوهِّم أن أهل النار كذلك يُلْحِقُ اللهُ بهم ذرِّيَّتهم ؛ أخبر أنه ليس حكم الدارين حكماً واحداً؛ فإنَّ النار دار العدل، ومن عدله تعالى أن لا يعذِّب أحداً إلاَّ بذنبٍ، ولهذا قال: {كلُّ امرئٍ بما كَسَبَ رهينٌ}؛ أي: مرتهنٌ بعمله؛ فلا تزر وازرةٌ وزرَ أخرى، ولا يُحْمَلُ على أحدٍ ذنبُ أحدٍ، فهذا اعتراضٌ من فوائده إزالة هذا الوهم المذكور.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔