ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطور (52) — آیت 17

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ نَعِیۡمٍ ﴿ۙ۱۷﴾
بے شک متقی لو گ باغوں اور بڑی نعمت میں ہیں۔ En
جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نعتموں میں ہوں گے
En
یقیناً پرہیزگار لوگ جنتوں میں اور نعمتوں میں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17){ اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ نَعِيْمٍ:} مکذبین کے برے انجام کے ذکر کے بعد متقین کے حسنِ انجام کا ذکر فرمایا۔ مزید دیکھیے سورۂ حجر (۴۵)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

17۔ 1 اہل کفر و اہل شقاوت کے بعد اہل ایمان و اہل سعادت کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ (البتہ) پرہیزگار [13] باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے
[13] یعنی جو لوگ اللہ کے فرمانبردار بن کے رہے تاکہ اس کے عذاب سے بچ جائیں۔ ان کو صرف عذاب سے بچایا ہی نہیں جائے گا بلکہ پربہار باغات میں داخل کیا جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جنت کے مناظر ٭٭
اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے، جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال، خوش دل ہیں، قسم قسم کے کھانے، طرح طرح کے پینے، بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند و بالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں، کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی، غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں، جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو، نہ کسی کان نے سنا ہو، نہ کسی دل پر خیال تک گزرا ہو، پھر اللہ کی طرف سے باربار مہمان نوازی کے طور پر ان سے کہا جاتا ہے «كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ» [69-الحاقة:24]‏‏‏‏ کھاتے پیتے رہو، خوش گوار، خوش ذائقہ، بےتکلف مزید مرغوب چیزیں تمہارے لیے مہیا ہیں۔
پھر ان کا دل خوش کرنے حوصلہ بڑھانے اور طبیعت میں امنگ پیدا کرنے کے لیے ساتھ ہی اعلان ہوتا ہے کہ یہ تو تمہارے اعمال کا بدلہ ہے جو تم اس جہان میں کر آئے ہو «عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَابِلِينَ» [37-الصفات:45]‏‏‏‏ مرصع اور جڑاؤ شاہانہ تخت پر بڑی بےفکری اور فارغ البالی سے تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے، ستر ستر سال گزر جائیں گے انہیں ضرورت نہ ہو گی کہ اٹھیں یا ہلیں جلیں، بےشمار سلیقہ شعار، ادب دان خدام ہر طرح کی خدمت کے لیے کمربستہ جس چیز کو جی چاہے آن کی آن میں موجود، آنکھوں کا نور، دل کا سرور، وافر و موفور سامنے بے انتہاء خوبصورت، خوب سیرت، گورے گورے پنڈے والی، بڑی بڑی رسیلی آنکھوں والی، بہت سی حوریں پاک دل، عفت مآب عصمت، خوش دل بہلانے اور خواہش پوری کرنے کے لیے سامنے کھڑی ہر ایک نعمت و رحمت چاروں طرف بکھری ہوئی، پھر بھلا انہیں کس چیز کی کمی۔ ستر سال کے بعد جب دوسری طرف مائل ہوتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اور ہی منظر ہے، ہر چیز نئی ہے، ہر نعمت جوبن پر ہے، اس طرف کی حوروں پر نظریں ڈالتے ہیں تو ان کے نور کی چکا چوند حیرت میں ڈال دیتی ہے، ان کی پیاری پیاری، بھولی بھالی شکلیں، اچھوتے پنڈے اور کنوار پن کی شرمیلی نظریں اور جوانی کا بانکپن دل پر مقناطیسی اثر ڈالتا ہے
جنتی کچھ کہے اس سے پہلے ہی وہ اپنی شیریں کلامی سے عجیب انداز سے کہتی ہیں، شکر ہے کہ آپ کا التفات ہماری طرف بھی ہوا، غرض اسی طرح من مانی نعمتوں سے مست ہو رہے ہیں۔ پھر ان جنتیوں کے تخت باوجود قطار وار ہونے کے اس طرح نہ ہوں گے کہ کسی کو کسی کی پیٹھ ہو بلکہ آمنے سامنے ہوں گے جیسے اور جگہ ہے «وَنَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰي سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ» [15-الحجر:47]‏‏‏‏ تختوں پر ہوں گے اور ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے۔
پھر فرماتا ہے ہم نے ان کے نکاح میں حوریں دے رکھی ہیں جو کبھی دل میلا نہ کریں، جب آنکھ پڑے، جی خوش ہو جائے اور ظاہری خوبصورتی کی تو کسی سے تعریف ہی کیا ہو سکتی ہے؟ ان کے اوصاف کے بیان کی حدیثیں وغیرہ کئی مقامات پر گزر چکی ہیں اس لئے انہیں یہاں وارد کرنا کچھ چنداں ضروری نہیں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد، اہل تقویٰ کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تاکہ ترغیب و ترہیب کو اکٹھا کر دے اور دل خوف و رجا کے درمیان رہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ جنھوں نے اپنے رب کے لیے تقویٰ کو اپنا شعار بنایا جو اس کے اوامر کے تعمیل اور اس کی نواہی سے کنارہ کشی کر کے اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچتے رہے۔ ﴿ فِیْ جَنّٰتٍ وہ باغات میں ہوں گے، ان باغات کی روشوں کو گھنے درختوں نے ڈھانپ رکھا ہو گا، ان میں اچھلتی کودتی ندیاں ہوں گی، چار دیواری سے گھرے ہوئے محل اور آراستہ کیے ہوئے گھر ہوں گے ﴿ وَّنَعِیْمٍ اور نعمتوں میں ہوں گے یہ قلب کی نعمت اور روح و بدن کی نعمت کو شامل ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لمَّا ذكر تعالى عقوبة المكذِّبين؛ ذكر نعيم المتَّقين؛ ليجمع بين الترغيب والترهيب، فتكون القلوبُ بين الخوف والرجاء، فقال: {إنَّ المتَّقين}: لربِّهم، الذين اتَّقوا سخطه وعذابه بفعل أسبابه من امتثال الأوامر واجتناب النواهي، {في جنَّاتٍ}؛ أي: بساتين، قد اكتست رياضها من الأشجار الملتفَّة والأنهار المتدفِّقة والقصور المُحْدِقة والمنازل المُزَخْرَفة، {ونعِيمٍ}: وهذا شاملٌ لنعيم القلب والروح والبدن.