تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 12

الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ خَوۡضٍ یَّلۡعَبُوۡنَ ﴿ۘ۱۲﴾
وہ جو فضول بحث میں کھیل رہے ہیں۔ En
جو خوض (باطل) میں پڑے کھیل رہے ہیں
En
جو اپنی بیہوده گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ خَوْضٍ یَّلْعَبُوْنَؔ جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذَكَرَ وصفَ المكذِّبين، الذين استحقُّوا به الويل، فقال: {الذين هم في خَوْضٍ يلعبون}؛ أي: خوض بالباطل ولعب به؛ فعلومُهم وبحوثهم بالعلوم الضارَّة المتضمِّنة للتكذيب بالحقِّ والتصديق بالباطل، وأعمالُهم أعمال أهل الجهل والسَّفَه واللعب؛ بخلاف ما عليه أهل التصديق والإيمان من العلوم النافعة والأعمال الصالحة.