اس آیت کی تفسیر آیت 11 میں تا آیت 13 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 یعنی اپنے کفر و باطل میں مصروف اور حق کی تکذیب استہزاء میں لگے ہوئے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ جو کج بحثیوں میں پڑے کھیل رہے ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
اللہ کا عذاب، فرشتوں کی مار، جہنم کی آگ ان کے لیے ہو گی جو دنیا میں مشغول تھے اور دین کو ایک کھیل تماشہ مقرر کر رکھا تھا، اس دن انہیں دھکے دے کر نار جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا اور داروغہ جہنم ان سے کہے گا کہ یہ وہ جہنم ہے جسے تم نہیں مانتے تھے پھر مزید ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر کہیں گے، اب بولو! کیا یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ! اس میں ڈوب جاؤ، یہ تمہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی، اب اس کے عذاب کی تمہیں سہار ہو یا نہ ہو، ہائے وائے کرو، خواہ خاموش رہو، اسی میں پڑے جھلستے رہو گے، کوئی ترکیب فائدہ نہ دے گی، کسی طرح چھوٹ نہ سکو گے، یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ صرف تمہارے اعمال کا بدلہ ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِیْنَهُمْفِیْخَوْضٍیَّلْعَبُوْنَؔ﴾”جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔“ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذَكَرَ وصفَ المكذِّبين، الذين استحقُّوا به الويل، فقال: {الذين هم في خَوْضٍ يلعبون}؛ أي: خوض بالباطل ولعب به؛ فعلومُهم وبحوثهم بالعلوم الضارَّة المتضمِّنة للتكذيب بالحقِّ والتصديق بالباطل، وأعمالُهم أعمال أهل الجهل والسَّفَه واللعب؛ بخلاف ما عليه أهل التصديق والإيمان من العلوم النافعة والأعمال الصالحة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔