تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 13

یَوۡمَ یُدَعُّوۡنَ اِلٰی نَارِ جَہَنَّمَ دَعًّا ﴿ؕ۱۳﴾
جس دن انھیں جہنم کی آگ کی طرف دھکیلا جائے گا، سخت دھکیلا جانا۔ En
جس دن ان کو آتش جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کر لے جائیں گے
En
جس دن وه دھکے دے دے کر آتش جہنم کی طرف ﻻئیں جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یَوْمَ یُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا: ﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِیْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يومَ يُدَعُّونَ إلى نار جهنَّم دعاً}؛ أي: [يوم] يُدفعون إليها دفعاً، ويساقون إليها سوقاً عنيفاً، ويجرون على وجوههم، ويُقال لهم توبيخاً ولوماً: {هذه النارُ التي كنتمُ بها تكذِّبون}: فاليوم ذوقوا عذابَ الخُلد الذي لا يُبْلَغُ قدرهُ ولا يوصَفُ أمره.