تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 10

وَّ تَسِیۡرُ الۡجِبَالُ سَیۡرًا ﴿ؕ۱۰﴾
اور پہاڑ چلیں گے، بہت چلنا۔ En
اور پہاڑ اُڑنے لگے اون ہو کر
En
اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّتَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًا یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وتسير الجبالُ سيراً}؛ أي: تزولُ عن أماكنها، وتسير كسير السحاب، وتتلوَّن كالعهن المنفوش، وتبثُّ بعد ذلك حتى تصير مثل الهباء، وذلك كلُّه لعظم هول يوم القيامةِ؛ [وفظاعة ما فيه من الأمور المزعجة والزلازل المقلقة التي أزعجت هذه الأجرام العظيمة] فكيف بالآدميِّ الضعيف؟!