ترجمہ و تفسیر — سورۃ الطور (52) — آیت 10

وَّ تَسِیۡرُ الۡجِبَالُ سَیۡرًا ﴿ؕ۱۰﴾
اور پہاڑ چلیں گے، بہت چلنا۔ En
اور پہاڑ اُڑنے لگے اون ہو کر
En
اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) { وَ تَسِيْرُ الْجِبَالُ سَيْرًا:} قیامت کے دن پہاڑوں پر گزرنے والے احوال کے لیے دیکھیے سورۂ نبا (۲۰) کی تفسیر۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ اور پہاڑ تیزی سے اڑتے [8] پھریں گے
[8] یعنی وہ پہاڑ جو زمین کی ڈگمگاہٹ اور ہچکولوں کو بند کرنے کے لیے زمین پر پھیلائے گئے تھے ان کی زمین میں اپنی گرفت ڈھیلی پڑ جائے گی اور وہ خود تیزی سے اڑتے پھریں گے اور ایسا معلوم ہو گا جیسے وہ دھنکی ہوئی روئی کے گالے ہیں جو اڑ رہے ہیں۔ اس طرح زمین و آسمان کا سارا نظام ہی درہم برہم ہو جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَّتَسِیْرُ الْجِبَالُ سَیْرًا یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وتسير الجبالُ سيراً}؛ أي: تزولُ عن أماكنها، وتسير كسير السحاب، وتتلوَّن كالعهن المنفوش، وتبثُّ بعد ذلك حتى تصير مثل الهباء، وذلك كلُّه لعظم هول يوم القيامةِ؛ [وفظاعة ما فيه من الأمور المزعجة والزلازل المقلقة التي أزعجت هذه الأجرام العظيمة] فكيف بالآدميِّ الضعيف؟!