تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الطور (52) — آیت 9

یَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا ۙ﴿۹﴾
جس دن آسمان لرزے گا، سخت لرزنا۔ En
جس دن آسمان لرزنے لگا کپکپا کر
En
جس دن آسمان تھرتھرانے لگے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا: ﴿یَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَآءُ مَوْرًا جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر وصفَ ذلك اليوم الذي يقع فيه العذابُ، فقال: {يوم تمورُ السَّماء مَوْراً}؛ أي: تدور السماء وتضطرب وتدوم حركتها بانزعاج وعدم سكونٍ.