تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اقوال جو ان کے اولین و آخرین سے صادر ہوئے ہیں کیا یہ ایسے اقوال نہیں جن کی انھوں نے ایک دوسرے کو وصیت اور ایک دوسرے کو تلقین کی ہے؟ پس اس سبب سے ان کا ان اقوال پر اتفاق کر لینا کچھ بعید نہیں۔ ﴿ بَلْهُمْقَوْمٌطَاغُوْنَ﴾”بلکہ وہ سرکش لوگ ہیں۔“ ان کے دل اور اعمال، کفر اور سرکشی کے سبب سے باہم مشابہت رکھتے ہیں۔ پس ان کی سرکشی سے جنم لینے والے ان کے اقوال بھی باہم مشابہت رکھتے ہیں۔ اور فی الواقع ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَقَالَالَّذِیْنَلَایَعْلَمُوْنَلَوْلَایُكَلِّمُنَااللّٰهُاَوْتَاْتِیْنَاۤاٰیَةٌ١ؕكَذٰلِكَقَالَالَّذِیْنَمِنْقَبْلِهِمْمِّثْ٘لَقَوْلِهِمْ١ؕتَشَابَهَتْقُ٘لُ٘وْبُهُمْ﴾(البقرہ: 2؍118)”اور وہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے، کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے ہم کلام کیوں نہیں ہوتا، یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی اسی طرح ان سے پہلے لوگ ان جیسی باتیں کیا کرتے تھے، ان کے دل ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں۔“ اور اسی طرح اہل ایمان کے دل، چونکہ اطاعت حق اور اس کی طلب اور کوشش میں باہم مشابہ ہیں، اس لیے وہ اپنے رسولوں پر ایمان، ان کی تعظیم و توقیر اور ان کے مرتبے کے لائق خطاب کے ذریعے سے مخاطب ہونے میں جلدی کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول الله تعالى: هذه الأقوال التي صَدَرَتْ منهم ـ الأولين والآخرين ـ هل هي أقوالٌ تواصَوْا بها، ولقَّن بعضُهم بعضاً بها؛ فلا يُستغرب بسبب ذلك اتِّفاقهم عليها؟! أم {هم قومٌ طاغونَ}؛ تشابهتْ قلوبُهم وأعمالهم بالكفر والطُّغيان، فتشابهت أقوالُهم الناشئة عن طغيانهم؟! وهذا هو الواقع؛ كما قال تعالى: {وقال الذين لا يعلمون لولا يُكَلِّمُنا الله أو تأتينا آيةٌ كذلك قال الذينَ من قَبْلِهِم مثلَ قولِهِم تشابهتْ قلوبُهم}، وكذلك المؤمنون لمَّا تشابهتْ قلوبُهم بالإذعان للحقِّ وطلبه والسعي فيه؛ بادروا إلى الإيمان برسُلِهم وتعظيمهم وتوقيرهم وخطابهم بالخطاب اللائق بهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔