تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول کو اعراض کرنے اور جھٹلانے والوں سے روگردانی کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ فَتَوَلَّعَنْهُمْ﴾ یعنی آپ ان کی پروا کیجیے نہ ان کا کوئی مواخذہ کیجیے، اپنے معاملات پر توجہ مرکوز رکھیے ﴿ فَمَاۤاَنْتَبِمَلُوْمٍ﴾ ان کے گناہ پر آپ کو کوئی ملامت نہیں، آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے جو ذمہ داری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کی گئی تھی وہ آپ نے پوری کر دی ہے اور جو پیغام دے کر آپ کو بھیجا گیا تھا وہ آپ نے پہنچا دیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقولُ تعالى آمراً رسولَه بالإعراض عن المعرضين المكذِّبين: {فتولَّ عنهم}؛ أي: لا تبالِ بهم، ولا تؤاخِذْهم، وأقبِلْ على شأنك؛ فليس عليك لومٌ في ذنبهم، وإنَّما عليك البلاغُ، وقد أدَّيت ما حملتَ وبلَّغتَ ما أرسلت به.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔