تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 38

وَ فِیۡ مُوۡسٰۤی اِذۡ اَرۡسَلۡنٰہُ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۸﴾
اور موسیٰ میں(بھی ایک نشانی ہے) جب ہم نے اسے فرعون کی طرف ایک واضح دلیل دے کر بھیجا۔ En
اور موسیٰ (کے حال) میں (بھی نشانی ہے) جب ہم نے ان کو فرعون کی طرف کھلا ہوا معجزہ دے کر بھیجا
En
موسیٰ (علیہ السلام کے قصے) میں (بھی ہماری طرف سے تنبیہ ہے) کہ ہم نے اسے فرعون کی طرف کھلی دلیل دے کر بھیجا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَفِیْ مُوْسٰۤى یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جو واضح آیات اور ظاہری معجزات کے ساتھ مبعوث فرمایا، اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {وفي موسى}: وما أرسله الله به إلى فرعون وملئه بالآيات البينات والمعجزات الظاهرات آيةٌ للذين يخافون العذاب الأليم.