تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 32

قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰی قَوۡمٍ مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۳۲﴾
انھوں نے کہا بے شک ہم کچھ گناہ گار لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ En
انہوں نے کہا کہ ہم گنہگار لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں
En
انہوں نے جواب دیا کہ ہم گناه گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْۤا اِنَّـاۤ٘ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَانھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا إنَّا أرْسِلْنا إلى قوم مجرمينَ}: وهم قومُ لوطٍ، قد أجرموا بإشراكهم بالله وتكذيبهم لرسولهم وإتيانهم الفاحشة التي لم يَسْبِقْهم إليها أحدٌ من العالمين.