تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالُوْۤااِنَّـاۤ٘اُرْسِلْنَاۤاِلٰىقَوْمٍمُّجْرِمِیْنَ﴾”انھوں نے کہا، ہمیں مجرم قوم کی طرف بھیجا گیا ہے۔“ اور اس سے مراد قوم لوط ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کے جرم کا ارتکاب کیا تھا، اپنے رسول کو جھٹلایا اور ایسی بدکاری کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا إنَّا أرْسِلْنا إلى قوم مجرمينَ}: وهم قومُ لوطٍ، قد أجرموا بإشراكهم بالله وتكذيبهم لرسولهم وإتيانهم الفاحشة التي لم يَسْبِقْهم إليها أحدٌ من العالمين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔