تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 33

لِنُرۡسِلَ عَلَیۡہِمۡ حِجَارَۃً مِّنۡ طِیۡنٍ ﴿ۙ۳۳﴾
تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر (کھنگر) پھینکیں۔ En
تاکہ ان پر کھنگر برسائیں
En
تاکہ ہم ان پر مٹی کے کنکر برسائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لِـنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ۰۰ مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْ٘مُسْرِفِیْنَ۠ تاکہ ہم ان پر مٹی کے پتھر برسائیں جو حد سے بڑھنے والوں کے لیے آپ کے رب کے ہاں سے نشان زدہ ہیں۔ یعنی ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس کو اس پتھر کا شکار ہونا تھا۔ کیونکہ وہ گناہ میں بڑھ گئے اور تمام حدود کو پھلانگ گئے تھے، چنانچہ ابراہیم علیہ السلام، قوم لوط کے بارے میں ان سے جھگڑنے لگے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو ہٹا دے، چنانچہ ان سے کہا گیا: ﴿یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ (ہود:11؍76) اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو، تیرے رب کا حکم آ گیا ہے اور ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑنے والا ہے، جو کبھی نہیں ٹل سکتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لنرسلَ عليهم حجارةً من طينٍ. مسوَّمةً عند ربِّكَ للمسرفينَ}؛ أي: معلَّمة على كلِّ حجرٍ اسم صاحبه؛ لأنَّهم أسرفوا وتجاوزوا الحدَّ. فجعل إبراهيمُ يجادِلُهم في قوم لوطٍ، لعلَّ الله يدفعُ عنهم العذاب، فقيل له: {يا إبراهيمُ أعْرِضْ عن هذا إنَّه قد جاء أمرُ رَبِّك وإنَّهم آتيهم عذابٌ غيرُ مردودٍ}.