تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 31

قَالَ فَمَا خَطۡبُکُمۡ اَیُّہَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴿۳۱﴾
کہا تو اے بھیجے ہوئے (قاصدو!) تمھارا معاملہ کیا ہے؟ En
ابراہیمؑ نے کہا کہ فرشتو! تمہارا مدعا کیا ہے؟
En
(حضرت ابرہیم علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا کیا مقصد ہے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْ٘مُرْسَلُوْنَ اے رسولو! تمھارا کیا معاملہ ہے اور تم کیا چاہتے ہو؟ کیونکہ حضرت ابراہیم سمجھ گئے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے کسی اہم معاملے میں بھیجا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال فما خطبُكم أيُّها المرسلونَ} ؛ أي: قال لهم إبراهيم عليه السلام: ما شأنُكم أيُّها المرسلون؟! وماذا تريدون؟! لأنَّه استشعر أنهم رسلٌ أرسلهم الله لبعض الشؤون المهمَّة.