تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 30

قَالُوۡا کَذٰلِکِ ۙ قَالَ رَبُّکِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۰﴾
انھوں نے کہا تیرے رب نے ایسے ہی فرمایا ہے، یقینا وہی کمال حکمت والا، بے حد علم والا ہے۔ En
(انہوں نے) کہا (ہاں) تمہارے پروردگار نے یوں ہی فرمایا ہے۔ وہ بےشک صاحبِ حکمت (اور) خبردار ہے
En
انہوں نے کہا ہاں تیرے پروردگار نے اسی طرح فرمایا ہے، بیشک وه حکیم وعلیم ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ فرشتوں نے کہا، (ہاں) تیرے پرودگار نے اسی طرح کہا ہے۔ یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے اس کو مقدر کر کے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ بے شک وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔ یعنی وہ ہستی جو تمام اشیاء کو ان کے محل و مقام پر رکھتی ہے، وہ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کرو اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا كذلِكِ قال رَبُّكِ}؛ أي: الله الذي قدَّر ذلك وأمضاه؛ فلا عجب في قدرة الله [تعالى]، {إنَّه هو الحكيم العليم}؛ أي: الذي يضع الأشياء مواضعها، وقد وسعَ كلَّ شيء علماً، فسلِّموا لحكمه، واشكروه على نعمته.