تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الذاريات (51) — آیت 23

فَوَ رَبِّ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثۡلَ مَاۤ اَنَّکُمۡ تَنۡطِقُوۡنَ ﴿٪۲۳﴾
سو آسمان و زمین کے رب کی قسم ہے !بلاشبہ یہ (بات) یقینا حق ہے اس (بات) کی طرح کہ بلاشبہ تم بولتے ہو۔ En
تو آسمانوں اور زمین کے مالک کی قسم! یہ (اسی طرح) قابل یقین ہے جس طرح تم بات کرتے ہو
En
آسمان وزمین کے پروردگار کی قسم! کہ یہ بالکل برحق ہے ایسا ہی جیسے کہ تم باتیں کرتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی کو بیان کر کے ان پر اس طرح متنبہ فرمایا جس سے عقل مند اور ذہین شخص تنبہ حاصل کرتا ہے تو اس نے قسم کھائی کہ اس کا وعدہ اور اس کی جزا و سزا حق ہیں۔ تب ظاہر اور واضح ترین چیز سے اس کو تشبیہ دی اور وہ نطق ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّـكُمْ تَنْطِقُوْنَ پس آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم! یہ اسی طرح حق ہے جس طرح تمھیں اپنے نطق لسان میں کوئی شک نہیں اسی طرح تمھیں قیامت اور جزا و سزا میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما بيَّن الآيات ونبَّه عليها تنبيهاً ينتبه به الذكيُّ اللبيبُ؛ أقسم تعالى على أنَّ وعده وجزاءه حقٌّ، وشبَّه ذلك بأظهر الأشياء لنا، وهو النُّطق، فقال: {فوربِّ السماءِ والأرضِ إنَّه لَحَقٌّ مثلما أنَّكم تَنطِقونَ}؛ فكما أنَّكم لا تشكُّون في نطقكم؛ فكذلك ينبغي أن لا يعترِيَكم الشكُّ في البعث والجزاء.