تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اللہ تعالیٰ نے آیات الٰہی کو بیان کر کے ان پر اس طرح متنبہ فرمایا جس سے عقل مند اور ذہین شخص تنبہ حاصل کرتا ہے تو اس نے قسم کھائی کہ اس کا وعدہ اور اس کی جزا و سزا حق ہیں۔ تب ظاہر اور واضح ترین چیز سے اس کو تشبیہ دی اور وہ نطق ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ فَوَرَبِّالسَّمَآءِوَالْاَرْضِاِنَّهٗلَحَقٌّمِّثْلَمَاۤاَنَّـكُمْتَنْطِقُوْنَ﴾”پس آسمانوں اور زمین کے رب کی قسم! یہ اسی طرح حق ہے جس طرح تمھیں اپنے نطق لسان میں کوئی شک نہیں اسی طرح تمھیں قیامت اور جزا و سزا میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما بيَّن الآيات ونبَّه عليها تنبيهاً ينتبه به الذكيُّ اللبيبُ؛ أقسم تعالى على أنَّ وعده وجزاءه حقٌّ، وشبَّه ذلك بأظهر الأشياء لنا، وهو النُّطق، فقال: {فوربِّ السماءِ والأرضِ إنَّه لَحَقٌّ مثلما أنَّكم تَنطِقونَ}؛ فكما أنَّكم لا تشكُّون في نطقكم؛ فكذلك ينبغي أن لا يعترِيَكم الشكُّ في البعث والجزاء.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔