تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَفِیالسَّمَآءِرِزْقُكُمْ﴾”اور آسمانوں میں تمھارا رزق ہے۔“ یعنی تمھارے رزق کا مادہ، مثلاً: بارش، رزق دینی اور رزق دنیاوی کی مختلف مقدار ﴿ وَمَاتُوْعَدُوْنَ﴾ یعنی دنیا و آخرت میں جزا و سزا کا جو وعدہ کیا گیا ہے، یہ جزا و سزا دیگر تقدیروں کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {وفي السماء رزقُكُم}؛ أي: مادة رزقكم من الأمطار وصنوف الأقدار؛ الرزق الدينيُّ والدنيويُّ، وما توعدونه من الجزاء في الدنيا والآخرة؛ فإنَّه ينزل من عند الله كسائر الأقدار.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔