تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 43

اِنَّا نَحۡنُ نُحۡیٖ وَ نُمِیۡتُ وَ اِلَیۡنَا الۡمَصِیۡرُ ﴿ۙ۴۳﴾
یقینا ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ En
ہم ہی تو زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے
En
ہم ہی جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری ہی طرف لوٹ پھر کر آنا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اسی لیے فرمایا: ﴿ اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَنُمِیْتُ وَاِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ۰۰ یَوْمَ تَ٘شَ٘قَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ بے شک ہم ہی تو زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے جس روز ان سے زمین پھٹ جائے گی یعنی مردوں سے ﴿ سِرَاعًا وہ پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تیزی سے حشر کے میدان کی طرف آئیں گے۔ ﴿ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے نہایت آسان ہے، جس میں کوئی تکان ہے نہ کلفت۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {إنَّا نحن نحيي ونميتُ وإلينا المصيرُ. يومَ تَشَقَّقُ الأرضُ عنهم}؛ أي: عن الخلائق {سراعاً}؛ أي: يسرعون لإجابة الدَّاعي لهم إلى موقفِ القيامة. {ذلك حشرٌ علينا يسيرٌ}؛ أي: سهل على الله ، لا تعبَ فيه ولا كلفةَ.