تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اسی لیے فرمایا: ﴿ اِنَّانَحْنُنُحْیٖوَنُمِیْتُوَاِلَیْنَاالْمَصِیْرُۙ۰۰یَوْمَتَ٘شَ٘قَّقُالْاَرْضُعَنْهُمْ ﴾”بے شک ہم ہی تو زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے جس روز ان سے زمین پھٹ جائے گی“ یعنی مردوں سے ﴿ سِرَاعًا ﴾ وہ پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تیزی سے حشر کے میدان کی طرف آئیں گے۔ ﴿ذٰلِكَحَشْرٌعَلَیْنَایَسِیْرٌ ﴾”یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے نہایت آسان ہے، جس میں کوئی تکان ہے نہ کلفت۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال: {إنَّا نحن نحيي ونميتُ وإلينا المصيرُ. يومَ تَشَقَّقُ الأرضُ عنهم}؛ أي: عن الخلائق {سراعاً}؛ أي: يسرعون لإجابة الدَّاعي لهم إلى موقفِ القيامة. {ذلك حشرٌ علينا يسيرٌ}؛ أي: سهل على الله ، لا تعبَ فيه ولا كلفةَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔