تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 42

یَّوۡمَ یَسۡمَعُوۡنَ الصَّیۡحَۃَ بِالۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ یَوۡمُ الۡخُرُوۡجِ ﴿۴۲﴾
جس دن وہ چیخ کو حق کے ساتھ سنیں گے، یہ نکلنے کا دن ہے۔ En
جس دن لوگ چیخ یقیناً سن لیں گے۔ وہی نکل پڑنے کا دن ہے
En
جس روز اس تند وتیز چیﺦ کو یقین کے ساتھ سن لیں گے، یہ دن ہوگا نکلنے کا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ جس روز تمام خلائق ہول ناک اور خوف ناک چیخ کی آواز سنیں گے ﴿ بِالْحَقِّ جس میں کوئی شک ہے نہ شبہ ﴿ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ وہ قبروں سے نکلنے کا دن ہو گا۔ اس روز اکیلا اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر قادر ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{يوم يسمعونَ الصَّيحَةَ}؛ أي: كلُّ الخلائق يسمعون تلك {الصيحة}: المزعجة المهولة {بالحقِّ}: الذي لا شكَّ فيه ولا امتراء. {ذلك يومُ الخروج}: من القبور، الذي انفرد به القادر على كلِّ شيء.