(آیت 43){ اِنَّانَحْنُنُحْيٖوَنُمِيْتُ …:} یعنی دنیا میں مسلسل زندگی اور موت کا سلسلہ صرف ہمارے ہاتھ میں ہے، کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ چنانچہ ہم بے شمار لوگوں کو زندگی بخشتے ہیں اور موت دے دیتے ہیں، پھر اور لوگوں کو زندگی عطا کرتے ہیں اور موت بھی دیتے ہیں۔ اسی طرح لاتعداد مخلوقات پیدا ہوتی اور مرتی چلی جا رہی ہیں اور آخر کار ان سب کو ہماری طرف ہی واپس آنا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
43۔ 1 یعنی دنیا میں موت سے ہمکنار کرنا اور آخرت میں زندہ کردینا، یہ ہمارا ہی کام ہے، اس میں کوئی ہمارا شریک نہیں ہے۔ 43۔ 2 وہاں ہم ہر شخص کو اس کے عملوں کے مطابق جزا دیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
43۔ بلا شبہ ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اسی لیے فرمایا: ﴿ اِنَّانَحْنُنُحْیٖوَنُمِیْتُوَاِلَیْنَاالْمَصِیْرُۙ۰۰یَوْمَتَ٘شَ٘قَّقُالْاَرْضُعَنْهُمْ ﴾”بے شک ہم ہی تو زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے جس روز ان سے زمین پھٹ جائے گی“ یعنی مردوں سے ﴿ سِرَاعًا ﴾ وہ پکارنے والے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تیزی سے حشر کے میدان کی طرف آئیں گے۔ ﴿ذٰلِكَحَشْرٌعَلَیْنَایَسِیْرٌ ﴾”یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے نہایت آسان ہے، جس میں کوئی تکان ہے نہ کلفت۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال: {إنَّا نحن نحيي ونميتُ وإلينا المصيرُ. يومَ تَشَقَّقُ الأرضُ عنهم}؛ أي: عن الخلائق {سراعاً}؛ أي: يسرعون لإجابة الدَّاعي لهم إلى موقفِ القيامة. {ذلك حشرٌ علينا يسيرٌ}؛ أي: سهل على الله ، لا تعبَ فيه ولا كلفةَ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔