تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 41

وَ اسۡتَمِعۡ یَوۡمَ یُنَادِ الۡمُنَادِ مِنۡ مَّکَانٍ قَرِیۡبٍ ﴿ۙ۴۱﴾
اور کان لگا کر سن جس دن پکارنے والا ایک قریب جگہ سے پکارے گا۔ En
اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا
En
اور سن رکھیں کہ جس دن ایک پکارنے واﻻ قریب ہی کی جگہ سے پکارے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاسْتَمِعْ اپنے دل کے ساتھ پکارنے والے کی پکار کو غور سے سن اور اس سے مراد حضرت اسرافیل علیہ السلام ہیں۔ یعنی جب اسرافیل علیہ السلام صور پھونکیں گے ﴿ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍ نزدیک کی جگہ سے۔ یعنی کسی ایسی جگہ سے مخلوق کے قریب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {واستمعْ}: بقلبك نداء المنادي، وهو إسرافيل عليه السلام، حين ينفخُ في الصور {من مكانٍ قريبٍ}: من الأرض.