اور ان سے پہلے بھی ہم بہت سی امتوں کو ہلاک کر چکے ہیں جو ان سے طاقت میں بہت زیاده تھیں وه شہروں میں ڈھونڈھتے ہی ره گئے، کہ کوئی بھاگنے کا ٹھکانہ ہے؟
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کو، جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلاتے ہیں، ڈراتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ وَؔكَمْاَهْلَكْنَاقَبْلَهُمْمِّنْقَ٘رْنٍ﴾”ہم نے ان سے پہلے کئی امتیں ہلاک کرڈالیں۔“ یعنی بہت سی قوموں کو ہلاک کیا ﴿ هُمْاَشَدُّمِنْهُمْ ﴾”وہ زیادہ تھے “ان لوگوں سے ﴿بَطْشًا﴾”قوت میں“ یعنی زمین میں، قوت اور آثار میں ان سے بڑھ کر تھے۔ بنابریں فرمایا: ﴿ فَنَقَّبُوْافِیالْبِلَادِ﴾”پس انھوں نے شہروں کاگشت کیا۔“ یعنی انھوں نے نہایت مضبوط قلعے اور بلند عمارتیں تعمیر کیں، باغات لگائے، نہریں نکالیں، کھیت اگائے، زمین کو آباد کیا اور ہلاک ہو گئے۔ جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اس کی آیات کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو درد ناک سزا اور سخت عذاب کے ذریعے سے گرفت میں لے لیا ﴿ هَلْمِنْمَّحِیْصٍ﴾”کیا کہیں بھاگنے کی جگہ ہے۔“ یعنی جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا ہے، اس وقت ان کے لیے کوئی بھاگنے کی جگہ ہوتی ہے۔ نہ کوئی بچانے والا ہوتا ہے پس ان کی قوت ان کا مال اور ان کی اولاد ان کے کسی کام نہ آ سکی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مخوفاً للمشركين المكذِّبين للرسول: {وكمْ أهْلَكْنا قبلَهم من قرنٍ}؛ أي: أمماً كثيرة {هم أشدُّ منهم بَطْشاً}؛ أي: قوةً وآثاراً في الأرض، ولهذا قال: {فَنَقَّبوا في البلاد}؛ أي: بنوا الحصون المنيعة والمنازل الرفيعة، وغرسوا الأشجار، وأجروا الأنهار، وزرعوا، وعمَّروا، ودمَّروا، فلما كذَّبوا رسل الله وجحدوا آياته ؛ أخذهم الله بالعقاب الأليم والعذاب الشديد. {هل من مَحيصٍ}؛ أي: لا مفرَّ لهم من عذاب الله حين نزل بهم ولا منقذ، فلم تغن عنهم قوَّتُهم ولا أموالهم ولا أولادهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔