تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّفِیْذٰلِكَلَذِكْرٰىلِمَنْكَانَلَهٗقَلْبٌ﴾”بےشک جو شخص دل رکھتا ہے اس کے لیے اس میں نصیحت ہے۔“ یعنی ایک عظیم، زندہ، ذہین اور پاک دل، یہ دل جب آیات الٰہی میں سے کوئی آیت اس پر گزرتی ہے تو اس سے نصیحت حاصل کر کے فائدہ اٹھاتا ہے اور بلند مقام پر فائز ہوتا ہے اور اسی طرح جو کوئی کان لگا کر آیات الٰہی کو اس طرح غور سے سنتا ہے، جس سے رشد و ہدایت حاصل کرتا ہے اور اس کا قلب ﴿ شَهِیْدٌ﴾”حاضر ہوتا ہے“ تو وہ بھی تذکر، نصیحت، شفا اور ہدایت سے بہرہ مند ہوتا۔ رہا روگردانی کرنے والا شخص جو آیات الٰہی کو غور سے نہیں سنتا تو اس شخص کو آیات الٰہی کوئی فائدہ نہیں دیتیں، کیونکہ اس کے پاس قبولیت کا مادہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی حکمت اس شخص کی ہدایت کا تقاضا نہیں کرتی جس کا یہ وصف ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّ في ذلك لَذِكْرى لِمَن كان له قلبٌ}؛ أي: قلبٌ عظيمٌ حيٌّ ذكيٌّ زكيٌّ؛ فهذا إذا ورد عليه شيء من آيات الله؛ تذكَّر بها وانتفع فارتفع، وكذلك من ألقى سمعه إلى آيات الله واستمعها استماعاً يسترشد به وقلبُه {شهيدٌ}؛ أي: حاضرٌ؛ فهذا أيضاً له ذكرى وموعظةٌ وشفاءٌ وهدى، وأمَّا المعرض الذي لم يصغِ سمعه إلى الآيات؛ فهذا لا تفيده شيئاً؛ لأنه لا قبول عنده، ولا تقتضي حكمةُ الله هداية من هذا نعته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔